اب مہرؔ آشنائی نہیں اس سے کچھ مجھے میری بلا سے اس کا برا ہو بھلے بھلا
اشعار
اپنا تو جاوداں ہے یہ عشق، اس کی فکر نئیں !تیرے شباب و حسن کی، شوخی کی خیر ہو
بہت نافع ہے وہ لڑکی سو اب سوچا یہ ہے میں نے اسے کھو کر محبت میں خسارہ کر لیا جائے
چاہے جو مجھ کو، اس کو نہ میں مل سکا جو مجھے چاہیے وہ نہ مجھ کو ملا
گاہے گاہے یوں لگتا ہے شاید ناصح سچ کہتا ہے
ہے وقتِ مرگ، رب سے مغفرت کی التجا کرو ابھی بھی تم کو اُس کا ہی خیال ہے، کمال ہے
ہم ہیں اکتائے ہوئے فرقت و وصلت سے بہت گر ہے تیجی کوئی صورت تو ہمیں بتلاؤ
اتنی وصلت بھی ہے مضر جاناں لطف میں کچھ کمی نہ ہو جائے
جنہیں تو مل گیا اُن کی بھی اُڑ گئیں نیندیں ترے ستائے ہوئے بھی نہ شب میں سو پائے
جس خواب میں ادب میں ترے مجھ سے ہو کمی بے شک ہے ایسے خواب پہ لعنت ہزار بار
جو میں چل پڑا تو رکا نہیں، بھلے دشت ہو یا ہو بَن کہیں جسے منزلوں کی ہوس رہے، وہ مرا سفر نہیں ہو سکا
جو رونا روئے داغِ دل کا اس کو کوئی لے جائے، میرا دل دکھائے
جو وقت مری ذات سے مطلوب ہے تجھ کو وہ مجھ کو میسر مری خاطر بھی نہیں ہے
کبھی کچھ بات کہتا ہوں تو میں کہتا نہیں بے جا جو میرے منھ سے نکلے ہے وہ بے شک، سب، صداقت ہے
خدایا رحم! کہ اب تو ملال و حزن کا بوجھ اُٹھا اُٹھا کہ کمر ہو گئی نڈھال مری
خوش کلامی سے میں کر سکتا ہوں جگ کو تسخیر حیف! وہ بت مری باتوں میں نہیں آ سکتا
کیا عجب؟ ڈھونڈ نہ پائی جو یہ دنیا مجھ کو لعل ویسے بھی بہت کم ہی ملا کرتے ہیں
میں کیا کروں گا عہدہ و منصب یا اقتدار یاں تو نہیں ہے اپنی ہی سانسوں پہ اختیار
میں تُجھ کو یاد تو کرتا ہوں جانِ جاں لیکِن یہ مجھ کو یاد نہیں کب میں یاد کرتا ہوں
ملال و رنج و آلام و تحزّن مقدر ہیں سو آہیں بھر رہے ہیں
منظرِ دالاں یہ کتنا خوب ہے اُس کی یادیں، گرم چائے، خامشی
مسحور عبث اے دلِ نادان ہوا تُو ورنہ وہ جمال ایسا فسوں گر بھی نہیں تھا
مہرؔ اپنا تو یہ شیوہ ہے کہ میٹھا بولیے خوش کلامی سے ہر اِک دل میں اترتے جائیے
مہرؔ مجھے کچھ غرض نہیں ہے میری بلا سے دنیا میں اور بھی لاکھوں ہوں گے حسیں پر میرے صنم کے کیا کہنے
مجھ کو ایسے دیکھ کے تم یوں مت سمجھو فرحان ہوں میں بعد تمہارے ہنسنا میرا محض اک دنیا داری ہے
نہ حیرت سے کیوں میں تکوں آسماں کو کہ پوچھے خدا جب تُو کیا چاہتا ہے؟
نہیں کچھ غرض مجھے ہم نشیں ترے آسماں کی ہے ریت کیا ہے معاملہ مرا مختلف، مرے آسماں پہ ہیں چاند دو
قہقہے چھوڑ آئے بچپن میں سبھی لے جوانی میں ہم آئے خامشی
قلبِ جاناں میں میری یادوں کا ربط ٹوٹے، یہ ہچکیاں جائیں
رخصت جو ہو رہے ہو تو عجلت کرو ذرا ایسا نہ ہو رقیب سے ملنے میں دیر ہو
!سنگ اُس کے رہا میں رشکِ فلک !ذرّۂ ہیچ اب ہوا، مُرشِد
شفق پھیلی ہوئی ہے چاروں جانب ترے رخسار کی یاد آ رہی ہے
تری تصویر سے اے جانِ جاناں گزارا ہو رہا ہے، کر رہے ہیں
تُو میرے پیار کو آنکھوں میں دیکھ لینا مری میں تُجھ کو چیر کے دل تو نہیں دکھاؤں گا
تُو نے ہی مجھے آتشِ ہجراں میں جلایا تُجھ سے تو بچھڑنے کا مجھے ڈر بھی نہیں تھا
!تم سے الفت میں مت پڑوں؟ اچھا اس سوا اور کیا نہیں کرنا؟
اجاڑے ہیں کئی مجنوں، کئی رانجھے محبت نے بتاؤ، ہم کو ہو پھر بھی یقیں اس پر، بھلا کیسے؟
عمر ماں باپ کی خدمت میں بسر کرنی تھی اور پردیس میں آلام کے قدموں میں ہوئی
یاد تیری تو رہی بعد کی بات اے جاناں مجھے اب شعر بھی کہنے کی نہیں ہے فرصت
یہ آنکھیں محض محبت میں ہی نہیں پڑتیں عدو ہی کتنے کیے ہیں نڈھال بھی ان نے
یہ خلق ہے کیا گیا مرے لیے مرے بغیر ہے جہاں تمام شُد
یوں تو ہوں خاک، پر جو ٹھان لوں تو کہکشاں رہگزار ہو جائے

