!یار سن بات یوں ہے کہ اب زندگی کا رویہ
!سن لو میرے شیدائی راز عشق کا پنہاں جو تمہارے دل میں ہے
کبھی باتوں ہی باتوں میں وہ مجھ سے پوچھ لیتی ہے
چلو چلتے تو ہیں یارو کہ چل کے دیکھ آتے ہیں
!مجھ کو تسلیم ہے ایک مدت سے یادیں تری اور میں ہم نشیں نئیں ہوئے