تنبیہہ
!سن لو میرے شیدائی
راز عشق کا پنہاں جو تمہارے دل میں ہے
مجھ پہ جب تلک بھی وہ راز کھل نہیں جاتا
تب تلک تمہیں ساری فرحتیں دلاؤں گا
تب تلک رفاقت کی محفلیں سجاؤں گا
زندگی کو جینے کا طور میں بتاؤں گا
زیست سے تمہاری میں خلوتیں مٹاؤں گا
درد سے بچاؤں گا
ساتھ مسکراؤں گا
غم تمہیں سناؤں گا
وقت بھی بِتاؤں گا
اوج بھی دکھاؤں گا
!ہاں مگر اے شیدائی
ریت جو زمانے کی چل رہی ہے صدیوں سے
میں اسے نبھاؤں گا
تم کو مجھ سے الفت ہے، جوں ہی جان جاؤں گا
!میں تمہیں ستاؤں گا
ؔ ناصر مہر
16-03-2023

