صدائے دلِ سوختہ

!مجھ کو تسلیم ہے
ایک مدت سے یادیں تری اور میں ہم نشیں نئیں ہوئے
ایک عرصے سے میں اتنا مصروف تھا، کیا بتاؤں تجھے
 
!مجھ کو تسلیم ہے
تیری یادوں کا پوچھا نہیں حال بھی
جب بھی آتیں وہ مجھ سے ملاقات کو، ٹال دیتا اُنہیں
ٹالنے پر بھی ٹلتی نہیں تھیں وہ گر
خود کو مشغول کر لیتا میں کام میں
تُو تو جانے ہے نا
تیری یادیں بھی تھوڑی سی ہیں ہٹ دھرم
وہ بہت دیر رہتیں مری منتظر
آخرِ کار پھر بے رخی سے مری
تنگ آ کر اکیلا مجھے چھوڑتیں
 
چونکہ اب کچھ دنوں سے فراغت ہے تو
آج مدعو کیا تھا تری یادوں کو
اور سنگ اُن کے محفل سجائی تھی اک
تھوڑی سی منبسط اور تھوڑی الم ناک محفل تھی وہ
!خیر، اچھی رہی
بعد محفل کے کانوں میں ہلکی سی آواز گونجی
ذرا غور کرنے پہ ظاہر ہوا
!ہے یہ دل کی صدا
ایک ایسی صدا
جس میں درد و الم
جس میں آزار و غم
جس میں رنج و محن
جس میں حزن و ملال
اور کیا کیا بتاؤں تمہیں کیا تھا شامل
صدا جس میں تھا اک سوالوں کا طوفاں
وہ طوفاں کہ جس سے بکھر سا گیا میں
بڑی مشکلوں سے جو خود کو سمیٹا تو سوچا
وہ سارے سوالات تم کو بتاؤں
 
!تو اے جانِ جاناں سنو
روز و شب اُس کی یادیں تمہیں جیسے کرتی ہیں ہلکان”
کیا اُس اذیّت کا یادیں تمہاری
کریں ایک چوتھائی بھی اُس پہ طاری؟
جوں یادوں کے سنگ اُس کی محفل سجاتا ہے تُو
جیسے دن رات یادوں کے ساتھ اُس کی مل کے اسے گنگناتا ہے تُو
یوں عنایت تو بالکل بھی ممکن نہیں بلکہ اتنا بتا
کیا وہ بے مہر یادوں سے تیری کبھی ہوتا ہے رُوبرو؟
جیسے غم اُس کا تُجھ کو شب و روز کھانے كو دوڑا کرے
ویسے اُس کا بھی ہوتا ہے حالِ زبوں
یا ہے اُس پار اُس کو میسّر سکوں؟
کیا تمہاری طرح وہ بھی خلقت سے چھپتے چھپاتے بہاتی ہے آنسو
اور آنسو بھی کیا بہتے ہیں اس قدر
جن سے رخسار نئیں بلکہ دامن ہو تر
کیا تمہاری طرح اُس کے خوابوں میں بھی محض ہے تیرگی؟
کیا تمہاری طرح اُس کی آنکھوں میں بھی محض ہے تشنگی؟
کیا تمہاری طرح اُس کے جیون میں بھی محض ہے بے کلی؟
کیا سیاہی ہے اُس کی بھی آنکھوں تلے؟
وہ بھی کیا تیرے غم کو لگائے گلے؟
سانس اُس کی بھی کیا تیری خاطر چلے؟
“دل میں اُس کے بھی کیا محض حسرت پلے؟
 
تھے سوالات اے سرد مہر ان گنت
پر نہ سننے کا ان کو ہوا حوصلہ
اور نہ کہنے کی مجھ میں ہے باقی سکت
ذہن پر طاری ہے بے یقینی فقط
رنج ہے، سوز ہے، حزن ہے شش جہت
 
اب تو ہر دم ہے رب سے یہی اک دعا
مجھ کو کر دے ذرا سا سکوں وہ عطا
مجھ کو لے وہ غمِ جاں گزا سے بچا
ہو نہ جائے یہ لاحق برائے سدا
!جان فرسا صدائے دلِ سوختہ
ؔ ناصر مہر
11-09-2021