سوالِ محبت
کبھی باتوں ہی باتوں میں
وہ مجھ سے پوچھ لیتی ہے
“تمہیں مجھ سے محبت ہے؟”
“میں کہتا ہوں، ”محبت ہے”
وہ کہتی ہے
بتاؤ تو”
تمہیں کتنی محبت ہے؟
تمہیں دعویٰ جو ہے اس کا
!جتاؤ تو
“تمہیں جتنی محبت ہے
میں اس نادان لڑکی سے
فقط اتنا ہی کہتا ہوں
!ارے پگلی”
محبت تو محبت ہے
زیادہ، کم نہیں ہوتی
یہ ہو تو ہوتی ہے ہر دم
نہ ہو، اک دم نہیں ہوتی
محبت تو وہ جذبہ ہے
کہ جس جذبے کو اے جاناں
جتایا جا نہیں سکتا
کہ شدت کو محبت کی
کبھی الفاظ میں لا کر
بتایا جا نہیں سکتا
محبت تو مری جاناں
عیاں خود ہو ہی جاتی ہے
یہ کس کو کس سے کتنی ہے
!یہ اپنا خود بتاتی ہے
“!یہ خود کو خود جتاتی ہے
ؔ ناصر مہر
21-07-2020

