کوچہء جاں
چلو چلتے تو ہیں یارو
کہ چل کے دیکھ آتے ہیں
ہمارے یار کے کوچے ہے اتنی بھیڑ کیوں برپا؟
یہ خلقت چاہتی کیا ہے؟
یہ سب ہیں منتظر کس کے؟
تکے جاتے ہیں حسرت سے یہ سب کس سمت، کس خاطر؟
یہ تو مجنون ہیں ہم سے
یہ سب ہیں ہم خیال اپنے
اسی کی چاہ ہے ان کو کہ جس کی ہم کو چاہت ہے
کہ جو ہے مشغلہ اپنا یہ سب بھی محو ہیں اُس میں
یہ سب عاجز
یہ بے چارے
یہ خالی سے نگاہوں کے کٹوروں کو لیے پیاسے
درِ جاناں کو تکتے ہیں
کہ شاید وہ پری پیکر دکھا دے اک ذرا جلوہ
کہ ان تشنہ نگاہوں کی ذرا سی تشنگی دم لے
سکوں پا لیں یہ کچھ لمحے
چلو پھر مہرؔ اب ہم بھی جگہ اپنی سنبھلتے ہیں
کہ ان تشنہ نگاہوں کو درِ جاناں پہ جڑتے ہیں
دعا پھر رب سے کرتے ہیں
!نگاہیں سیر ہوں سب کی
!خدایا خیر ہو سب کی
ؔ ناصر مہر
05-07-2020

