غزلیات

رہیں کاوشیں مری سب عبث کہ ذرا اثر نہیں ہو سکا مرے یار! وہ مرا یار، قصۂ مختصر، نہیں ہو سکا

غزل
2022-11-07

اِس قدر زمانے سے تُو برتر بھی نہیں تھا جُھک جائے جبیں جس پہ تُو وہ در بھی نہیں تھا

غزل
2022-08-11

بیدادگر کو دل یہ برا کیوں کہے بھلا جیسا بھی ہے عزیز ہے مولا کرے بھلا

غزل
2022-06-15

سنبھالوں بھلا کیسے کہ دل بس میں نہیں ہے وہ زہرہ جبیں آج مرا پہلو نشیں ہے

غزل
2022-06-15

اخیر لطف اسے بے وفائی دیتی ہے جبھی وہ غیروں کو خود تک رسائی دیتی ہے

غزل
2022-03-01

درج منزل نہ کبھی اپنے نصیبوں میں ہوئی عمر ساری ہی بسر اپنی تو رستوں میں ہوئی

غزل
2022-03-01

کوئی بتائے بھلا کہ کیا ہے، یہ نصف شب میں؟ کیوں اتنی مغموم سی فضا ہے، یہ نصف شب میں؟

غزل
2021-12-20

اُس نظرِ کے ہی سبب پھول کھلا کرتے ہیں وہ اٹھا کرتی ہے تو تارے جلا کرتے ہیں

غزل
2021-12-17

وہ پھر بن ٹھن کے گھر سے جا رہی ہے نجانے کس کی شامت آ رہی ہے

غزل
2021-11-19

ہیں میری جان کو بخشے وبال بھی ان نے کہ کر دیا مرے اشکوں کو لال بھی ان نے

غزل
2021-10-03

میں نے کہا کہ پیار ہے؟ اُس نے کہا نہیں نہیں دل ترا بے قرار ہے؟ اُس نے کہا نہیں نہیں

غزل
2021-09-13

اُن کے تغافل، اُن کی تعدی، اُن کے ستم کے کیا کہنے اُن کی توجہ، اُن کے ترحم، اُن کے کرم کے کیا کہنے

غزل
2021-09-11

درد ایسا ہے کہ لفظوں میں نہیں آ سکتا کرب ایسا ہے کہ اشکوں میں نہیں آ سکتا

غزل
2021-09-10

عشق سوائے اس کے کیا ہے رنج، ملامت اور بلا ہے

غزل
2021-09-10

!اب کروں تو کروں میں کیا مُرشِد !میں تو جیتے جی مر گیا مُرشِد

غزل
2021-08-19

مری جانِ جاں مجھے تو اتنا نہ آزما اب ترے چاند جیسے رخ سے پردہ ہٹا ذرا اب

غزل
2021-08-08

ترے بنا یہ زیست جو محال ہے، کمال ہے جو دل کو تیرے ہجر کا ملال ہے، کمال ہے

غزل
2021-08-07

جس کے مقابل عشق اگر ہو تو زیر ہو !ہے کون اس جہاں میں جو ایسا دلیر ہو

غزل
2021-08-02

کروں میں اُس پری پیکر کے دل میں گھر، بھلا کیسے؟ کروں میں موم اُس دل کو جو ہے پتھر، بھلا کیسے؟

غزل
2021-08-02

کیا زندگی ہے وہ جو تمہارے بغیر ہو جوں باغ کی بے نکہت و بے رنگ سیر ہو

غزل
2021-08-02

بو الہوس جتنے ہیں سب کو ہے میسّر قربت اور ہے قسمتِ عشاق میں لکھی فرقت

غزل
2021-07-27

تمہارا نام اب سانسوں کی مالا میں پرونا ہے تمہیں اپنا بنانا ہے، تمہارا ہم نے ہونا ہے

غزل
2021-07-27

جگر کے داغ مرے جب میں یاد کرتا ہوں ستم سہے جو ترے سب میں یاد کرتا ہوں

غزل
2021-07-11

ترے بن جب سے سانسیں بھر رہے ہیں گو تب سے جیتے جی ہی مر رہے ہیں

غزل
2021-07-04

یہ کیسا قہر کرب اندر مچائے سرِ مژگاں یہ موتی کیوں ہیں آئے

غزل
2021-06-29

دل لگایا ہے آپ سے جب سے دل نہیں لگ رہا کہیں تب سے

غزل
2021-06-25

میرے در پر نہ رکو میرے صنم، مڑ جاؤ تم بھی اب درد سہو، بین کرو، پچھتاؤ

غزل
2021-06-20

دِل اس کا بھی نہیں خالی مرے دِل میں گر اُلفت ہے نہیں ہے انتہا جس کی، غضب کی وہ کدورت ہے

غزل
2021-06-12

اپنے زخموں کو وا نہیں کرنا اب کسی سے گِلہ نہیں کرنا

غزل
2021-05-28

کیوں بھلا مجھ کو نہ بھائے خامشی مجھ کو سینے سے لگائے خامشی

غزل
2021-05-28

میں خود کو یاد دلا کر تری ستاؤں گا تجھے میں بھول بھی پایا تو نئیں بھلاؤں گا

غزل
2021-05-18

ہجر بس قائمی نہ ہو جائے حزن سے ہمدمی نہ ہو جائے

غزل
2021-05-14

کہ چھوڑ کے تم کو جا رہے ہیں، بتا رہے ہیں ہمیں الم راس آ رہے ہیں، بتا رہے ہیں

غزل
2021-05-08

رہی ہے جاری ریاضت ہی کتنے سال مری تبھی تو جا کے بنی ہے مدھُر یہ تال مری

غزل
2021-05-02

پہلے میرے انس و الفت سے سنورتے جائیے پھر مجھے آئینہ کریے اور نکھرتے جائیے

غزل
2021-04-25

کبھی بھی چاہ کے پلکوں کو ہم نہ دھو پائے کہ ہم اسیر تھے اس جنس کے، نہ رو پائے

غزل
2021-04-01

میں کیا کروں گا عہدہ و منصب یا اقتدار یاں تو نہیں ہے اپنی ہی سانسوں پہ اختیار

غزل
2021-03-20

آسرا تم نے لیا تھا کبھی جس کا ہمدم میں نے چومی ہے وہ دیوار کئی بار صنم

غزل
2021-03-12

آپ نے جو کہا، سب صحیح، سب بجا جرم ہے سب مرا، میں غلط، میں برا

غزل
2021-02-24

زندگی خوشگوار ہو جائے گر تجھے مجھ سے پیار ہو جائے

غزل
2021-01-11

کوئی سنتا نہیں جہاں جائیں ہائے ہم کیا کریں کہاں جائیں

غزل
2021-01-06

بس اب تو اندھیرا مٹا چاہتا ہے کہ وقت سحر اب ہوا چاہتا ہے

غزل
2020-12-28

سب پوچھیں ہیں اتنے لاغر کیوں ہو، کیا آزاری ہے؟ !میں کیسے بتلاؤں اُن کو، ہجر کسی کا طاری ہے

غزل
2020-12-28

اس عین شین قاف کی نگری میں نہ جانا داناؤں کو کرے ہے یہ پل بھر میں دوانہ

غزل
2020-11-19

تُجھ پہ نظرِ کرم وہ اٹھی ہے کبھی؟ چشمِ ساقی سے مے تو نے پی ہے کبھی؟

غزل
2020-10-28

اب عشق کا یہ امتحاں تمام شُد کہ سانس کا یہ کارواں تمام شُد

غزل
2020-09-21

جبھی تو یہ حالتِ حال ہے، ہوا دستیاب ہے غیر کو وہی چاند پڑ گیا ماند اب، تھا فلک کی زینت و زیب جو

غزل
2020-09-10

اب اس دنیا کی محفل سے کنارہ کر لیا جائے یہ اچھا ہے کہ خلوت کو سہارا کر لیا جائے

غزل
2020-07-11

اے ستم گر ہمیں یوں ستایا نہ کر ہم کو تُو بارہا آزمایا نہ کر

غزل
2020-05-28

آج مجھ کو گلے سے لگا، عید ہے آج سب رنجشیں دے بھلا، عید ہے

غزل
2020-05-24

زندگی ہمیں تُو نے کس قدر ستایا ہے ایک ایک اشک اپنا اشک خوں بنایا ہے

غزل
2020-04-28

نگاہوں کو تجھ پر جڑی چاہتا ہوں میں چوکھٹ پہ تیری پڑی چاہتا ہوں

غزل
2019-06-01