رہیں کاوشیں مری سب عبث کہ ذرا اثر نہیں ہو سکا مرے یار! وہ مرا یار، قصۂ مختصر، نہیں ہو سکا
غزلیات
اِس قدر زمانے سے تُو برتر بھی نہیں تھا جُھک جائے جبیں جس پہ تُو وہ در بھی نہیں تھا
بیدادگر کو دل یہ برا کیوں کہے بھلا جیسا بھی ہے عزیز ہے مولا کرے بھلا
سنبھالوں بھلا کیسے کہ دل بس میں نہیں ہے وہ زہرہ جبیں آج مرا پہلو نشیں ہے
اخیر لطف اسے بے وفائی دیتی ہے جبھی وہ غیروں کو خود تک رسائی دیتی ہے
درج منزل نہ کبھی اپنے نصیبوں میں ہوئی عمر ساری ہی بسر اپنی تو رستوں میں ہوئی
کوئی بتائے بھلا کہ کیا ہے، یہ نصف شب میں؟ کیوں اتنی مغموم سی فضا ہے، یہ نصف شب میں؟
اُس نظرِ کے ہی سبب پھول کھلا کرتے ہیں وہ اٹھا کرتی ہے تو تارے جلا کرتے ہیں
وہ پھر بن ٹھن کے گھر سے جا رہی ہے نجانے کس کی شامت آ رہی ہے
ہیں میری جان کو بخشے وبال بھی ان نے کہ کر دیا مرے اشکوں کو لال بھی ان نے
میں نے کہا کہ پیار ہے؟ اُس نے کہا نہیں نہیں دل ترا بے قرار ہے؟ اُس نے کہا نہیں نہیں
اُن کے تغافل، اُن کی تعدی، اُن کے ستم کے کیا کہنے اُن کی توجہ، اُن کے ترحم، اُن کے کرم کے کیا کہنے
درد ایسا ہے کہ لفظوں میں نہیں آ سکتا کرب ایسا ہے کہ اشکوں میں نہیں آ سکتا
عشق سوائے اس کے کیا ہے رنج، ملامت اور بلا ہے
!اب کروں تو کروں میں کیا مُرشِد !میں تو جیتے جی مر گیا مُرشِد
مری جانِ جاں مجھے تو اتنا نہ آزما اب ترے چاند جیسے رخ سے پردہ ہٹا ذرا اب
ترے بنا یہ زیست جو محال ہے، کمال ہے جو دل کو تیرے ہجر کا ملال ہے، کمال ہے
جس کے مقابل عشق اگر ہو تو زیر ہو !ہے کون اس جہاں میں جو ایسا دلیر ہو
کروں میں اُس پری پیکر کے دل میں گھر، بھلا کیسے؟ کروں میں موم اُس دل کو جو ہے پتھر، بھلا کیسے؟
کیا زندگی ہے وہ جو تمہارے بغیر ہو جوں باغ کی بے نکہت و بے رنگ سیر ہو
بو الہوس جتنے ہیں سب کو ہے میسّر قربت اور ہے قسمتِ عشاق میں لکھی فرقت
تمہارا نام اب سانسوں کی مالا میں پرونا ہے تمہیں اپنا بنانا ہے، تمہارا ہم نے ہونا ہے
جگر کے داغ مرے جب میں یاد کرتا ہوں ستم سہے جو ترے سب میں یاد کرتا ہوں
ترے بن جب سے سانسیں بھر رہے ہیں گو تب سے جیتے جی ہی مر رہے ہیں
یہ کیسا قہر کرب اندر مچائے سرِ مژگاں یہ موتی کیوں ہیں آئے
دل لگایا ہے آپ سے جب سے دل نہیں لگ رہا کہیں تب سے
میرے در پر نہ رکو میرے صنم، مڑ جاؤ تم بھی اب درد سہو، بین کرو، پچھتاؤ
دِل اس کا بھی نہیں خالی مرے دِل میں گر اُلفت ہے نہیں ہے انتہا جس کی، غضب کی وہ کدورت ہے
اپنے زخموں کو وا نہیں کرنا اب کسی سے گِلہ نہیں کرنا
کیوں بھلا مجھ کو نہ بھائے خامشی مجھ کو سینے سے لگائے خامشی
میں خود کو یاد دلا کر تری ستاؤں گا تجھے میں بھول بھی پایا تو نئیں بھلاؤں گا
ہجر بس قائمی نہ ہو جائے حزن سے ہمدمی نہ ہو جائے
کہ چھوڑ کے تم کو جا رہے ہیں، بتا رہے ہیں ہمیں الم راس آ رہے ہیں، بتا رہے ہیں
رہی ہے جاری ریاضت ہی کتنے سال مری تبھی تو جا کے بنی ہے مدھُر یہ تال مری
پہلے میرے انس و الفت سے سنورتے جائیے پھر مجھے آئینہ کریے اور نکھرتے جائیے
کبھی بھی چاہ کے پلکوں کو ہم نہ دھو پائے کہ ہم اسیر تھے اس جنس کے، نہ رو پائے
میں کیا کروں گا عہدہ و منصب یا اقتدار یاں تو نہیں ہے اپنی ہی سانسوں پہ اختیار
آسرا تم نے لیا تھا کبھی جس کا ہمدم میں نے چومی ہے وہ دیوار کئی بار صنم
آپ نے جو کہا، سب صحیح، سب بجا جرم ہے سب مرا، میں غلط، میں برا
زندگی خوشگوار ہو جائے گر تجھے مجھ سے پیار ہو جائے
کوئی سنتا نہیں جہاں جائیں ہائے ہم کیا کریں کہاں جائیں
بس اب تو اندھیرا مٹا چاہتا ہے کہ وقت سحر اب ہوا چاہتا ہے
سب پوچھیں ہیں اتنے لاغر کیوں ہو، کیا آزاری ہے؟ !میں کیسے بتلاؤں اُن کو، ہجر کسی کا طاری ہے
اس عین شین قاف کی نگری میں نہ جانا داناؤں کو کرے ہے یہ پل بھر میں دوانہ
تُجھ پہ نظرِ کرم وہ اٹھی ہے کبھی؟ چشمِ ساقی سے مے تو نے پی ہے کبھی؟
اب عشق کا یہ امتحاں تمام شُد کہ سانس کا یہ کارواں تمام شُد
جبھی تو یہ حالتِ حال ہے، ہوا دستیاب ہے غیر کو وہی چاند پڑ گیا ماند اب، تھا فلک کی زینت و زیب جو
اب اس دنیا کی محفل سے کنارہ کر لیا جائے یہ اچھا ہے کہ خلوت کو سہارا کر لیا جائے
اے ستم گر ہمیں یوں ستایا نہ کر ہم کو تُو بارہا آزمایا نہ کر
آج مجھ کو گلے سے لگا، عید ہے آج سب رنجشیں دے بھلا، عید ہے
زندگی ہمیں تُو نے کس قدر ستایا ہے ایک ایک اشک اپنا اشک خوں بنایا ہے
نگاہوں کو تجھ پر جڑی چاہتا ہوں میں چوکھٹ پہ تیری پڑی چاہتا ہوں

