ہجر بس قائمی نہ ہو جائے
حزن سے ہمدمی نہ ہو جائے
حل نکالیں چلو محبت کا
مسئلہ دائمی نہ ہو جائے
اتنی وصلت بھی ہے مضر جاناں
لطف میں کچھ کمی نہ ہو جائے
خوف آتا ہے سوچ کر مجھ کو
بھیڑیا آدمی نہ ہو جائے
جب ہی اُس سے میں کچھ گریزاں ہوں
وہ کہیں لازمی نہ ہو جائے
ہے دعا مہرؔ جانِ جاناں کی
غیر سے محرمی نہ ہو جائے
ؔ ناصر مہر
14-05-2021

