کہ چھوڑ کے تم کو جا رہے ہیں، بتا رہے ہیں
ہمیں الم راس آ رہے ہیں، بتا رہے ہیں
نہیں ہو تم گر تو پھر یہ کیوں ہم سنبھال رکھیں
تمہارے سب خط جلا رہے ہیں، بتا رہے ہیں
کرو تیاری عدم کو ہجرت کی سب کے سب ہی
واں اپنی باری پہ جا رہے ہیں، بتا رہے ہیں
بلا قواعد سطور جوڑے یہ فرضی شاعر
ادب کی عزت گھٹا رہے ہیں، بتا رہے ہیں
نہ دو دعائیں الم کشوں کو کہ رنج و غم سے
بے انت راحت یہ پا رہے ہیں، بتا رہے ہیں
نہ اک نظر بھی جنہیں گوارا کہ ہم کو بخشیں
وہ مہرؔ کے آشنا رہے ہیں بتا رہے ہیں
ؔ ناصر مہر
08-05-2021

