رہی ہے جاری ریاضت ہی کتنے سال مری
تبھی تو جا کے بنی ہے مدھُر یہ تال مری
یہ چار ہاتھ کی دوری پلِ صراط سی ہے
اور اس صراط سے گزروں میں، کیا مجال مری!
نشاطِ دہر کی سردی بھی کچھ نہ کر پائی
کہ رنجِ فُرقت جانِ جہاں ہے شال مری
یہ کہہ رہا ہوں اگر خوش ہوں میں، ملول نہیں
گلے لگا لے تو مجھ کو، یہ بات ٹال مری
یہ مانتا ہوں کہ خلوت میں کچھ گناہ ہوئے
پر اب تُو بزم میں پگڑی تو مت اچھال مری
کٹھن یہ راہ کہاں تیرے سنگ طے ہوگی
تری تو چال سے بھی مل نہ پائے چال مری
خدایا رحم! کہ اب تو ملال و حزن کا بوجھ
اُٹھا اُٹھا کہ کمر ہو گئی نڈھال مری
گریز کرتی ہے پڑھنے سے، کھو نہ دے کہیں دل
کہ اُس کے واسطے تو شاعری ہے جال مری
ہمیشہ میں نے سنا، رابطہ نہیں ممکن
ہمیشہ کھوئی کہیں راہ میں ہی کال مری
ہو مہرؔ بزم میں اُن کی کبھی جو ذکرِ وفا
تو قیس و رانجھا و فرہاد دیں مثال مری
ؔ ناصر مہر
02-05-2021

