پہلے میرے انس و الفت سے سنورتے جائیے
پھر مجھے آئینہ کریے اور نکھرتے جائیے
ہم ہیں مشتاقِ خس و خاشاک حالی جانِ جاں
ہم کو اپنے تیوروں سے خاک کرتے جائیے
آپ چونکہ چل پڑے ہیں عاشقی کی راہ پر
ہر مسرّت، ہر خوشی پر پاؤں دھرتے جائیے
دیکھیو سفّاکی اُس کی، آستاں پر لکھ دیا
“دل لگاتے جائیے اور آہ بھرتے جائیے”
حادثہ ہی تو ہوا ہے اک سڑک پر اور کیا
رکیے پل بھر کو یا منھ پھیرے گزرتے جائیے
حسن والوں کا ازل سے ہی یہی دستور ہے
کیجے وعدہ وصل کا اور پھر مکرتے جائیے
مہرؔ اپنا تو یہ شیوہ ہے کہ میٹھا بولیے
خوش کلامی سے ہر اِک دل میں اترتے جائیے
ؔ ناصر مہر
25-04-2021

