کبھی بھی چاہ کے پلکوں کو ہم نہ دھو پائے
کہ ہم اسیر تھے اس جنس کے، نہ رو پائے
تمہیں میں کیسے بتاؤں کہ ایک شاعر پر
گزرتی کیا ہے کہ جب اک غزل نہ ہو پائے
اُجاڑ ڈالی یہ ہستی ترے لیے پھر بھی
نہ تیرے دل میں محبت کا بیج بو پائے
لباس اجلا رکھا ہم نے عمر بھر اپنا
مگر یہ حیف کبھی داغِ دل نہ دھو پائے
جنہیں تو مل گیا اُن کی بھی اُڑ گئیں نیندیں
ترے ستائے ہوئے بھی نہ شب میں سو پائے
ہماری عمر کٹی مہرؔ کیسے، کیا بولیں
ہر اِک قدم جو اٹھا اُس پہ رنجِ نو پائے
ؔ ناصر مہر
01-04-2021

