میں کیا کروں گا عہدہ و منصب یا اقتدار
یاں تو نہیں ہے اپنی ہی سانسوں پہ اختیار
 
ناصح بھی بن نہ پائے، نہ بن پائے غم گسار
میں کیا کہوں کہ مہرؔ ملے کیسے مجھ کو یار
 
جس خواب میں ادب میں ترے مجھ سے ہو کمی
بے شک ہے ایسے خواب پہ لعنت ہزار بار
 
خنجر کی مثل چبھتا ہے دل میں ہر ایک پل
تم جانتے ہو کتنا کٹھن ہے یہ انتظار؟
 
بچھڑا وہ اپنے دل سے مگر خوش نہ رہ سکا
بتلائے کوئی مجھ کو ملی جیت ہے یا ہار
 
جکڑا ہے تیرے گیسوؤں میں مہرؔ کا یہ دم
اس کو تو کر بحال، ستم گر لٹیں سنوار
ؔ ناصر مہر
20-03-2021