آسرا تم نے لیا تھا کبھی جس کا ہمدم
میں نے چومی ہے وہ دیوار کئی بار صنم
تُو نے تو مجھ کو گنوایا تھا ترے ہاتھوں سے
کیوں ہے پھر آج بھلا آنکھ تری ایسے نم؟
میں نہیں تیری زباں کا مری جاناں محتاج
حال سب کہہ چکی مجھ سے تری زلفِ برہم
چارہ گر زخم ہرے ہوں گے مسیحائی سے
چھوڑ دے ان کو کہ ہے درد ہی ان کا مرہم
مہرؔ کس قدر ہی منشط ہو وہ لمحہ جس میں
یار ہو سامنے اور بھر لے کوئی آخری دم
ؔ ناصر مہر
12-03-2021

