آپ نے جو کہا، سب صحیح، سب بجا
جرم ہے سب مرا، میں غلط، میں برا
حزن جاناں يا حزن جہاں ہے بڑا
اب تلک بھی نہ مجھ سے ہوا فیصلہ
تُجھ سے تو تھی ہمیں بس اُمیدِ وفا
حیف صد حیف! کہ تُو نے بھی دی ہے دغا
ہے جہاں پر مری ہستی کی انتہا
تیری ہستی کی ہے واں سے ہی ابتدا
رونا ہوتا ہے لازم ہو جو بھی وجہ
عشق سے بچ چلو تو یہ جگ دے رُلا
ہے ملاقاتِ غم کا سمے آ گیا
!راحت و فرحت و خرّمی، تخلیہ
چاہے جو مجھ کو، اس کو نہ میں مل سکا
جو مجھے چاہیے وہ نہ مجھ کو ملا
اشک آنکھوں سے ڈھلکے نہ کیوں، کیا پتہ
ہجر ہے، حزن ہے، چاہیے اور کیا؟
مہرؔ کو دی نہیں تم نے راحت کبھی
!آگہی، زندگی، دِل لگی، شکریہ
ؔ ناصر مہر
24-02-2021

