زندگی خوشگوار ہو جائے
گر تجھے مجھ سے پیار ہو جائے
 
جب کبھی اس گلی سے گزروں ہوں
طاری ازحد خمار ہو جائے
 
ایسے محبوب پر ہے تف میری
جو رقیبوں کا یار ہو جائے
 
دید ہو جائے کُل جہاں کی مجھے
جب نظر اُن سے چار ہو جائے
 
وہ نہ ہو گر تو میرے سنگ اک اک
گھر کی شے اشکبار ہو جائے
 
یوں تو ہوں خاک، پر جو ٹھان لوں تو
کہکشاں رہگزار ہو جائے
 
مہرؔ اک تُو ہو گر عدم موجود
بزم کُل سوگوار ہو جائے
ؔ ناصر مہر
11-01-2021