کوئی سنتا نہیں جہاں جائیں
ہائے ہم کیا کریں کہاں جائیں
خوار ہوں اُس گلی میں جتنا بھی
پھر بھی ہم روز و شب وہاں جائیں
یاں پہ عشرت ہے واں پہ حزن و ملال
آپ عاشق ہیں؟ آپ واں جائیں
کون نکلے قضا کے چنگل سے
ارض میں کتنے آسماں جائیں
قلبِ جاناں میں میری یادوں کا
ربط ٹوٹے، یہ ہچکیاں جائیں
کیا بقا کا کہوں میں رشتوں کی
جائیں تو باعثِ زباں جائیں
نجمِ قسمت نہ کاہے چمکے ہے
دیکھنے سوئے کہکشاں جائیں
اُس کی مشقِ ستم رہے جاری
مہرؔ نالے مرے زیاں جائیں
ؔ ناصر مہر
06-01-2021

