بس اب تو اندھیرا مٹا چاہتا ہے
کہ وقت سحر اب ہوا چاہتا ہے
دوا دارو اب تو نہ ٹھہرے موثر
مریضِ محبت دعا چاہتا ہے
ہر اک اپنے دل میں جفا کو سمو کے
ہر اک دوسرے سے وفا چاہتا ہے
کبھی نفس کے تُو شکنجے سے بچ جا
کبھی تو وہ کر جو خدا چاہتا ہے
نہ حیرت سے کیوں میں تکوں آسماں کو
کہ پوچھے خدا جب تُو کیا چاہتا ہے؟
یہ تو ہے غم و تیرگی کا ٹھکانہ
تُو کیوں میرے دل میں جگہ چاہتا ہے؟
وہی شخص روزِ جزا سرخرو ہے
فقط جو خدا کی رضا چاہتا ہے
یہ مسلم عبادت کے بدلے میں اب تو
خدا کی رضا نئیں، جزا چاہتا ہے
ہوا مہرؔ سے ہے گناہِ کبیرہ
یہ بس عشق کی اب سزا چاہتا ہے
ؔ ناصر مہر
28-12-2020

