سب پوچھیں ہیں اتنے لاغر کیوں ہو، کیا آزاری ہے؟
!میں کیسے بتلاؤں اُن کو، ہجر کسی کا طاری ہے
 
مہرؔ کی زندگی کا بس اتنا ہی احوال ہے جانِ جاں
تیرے ہوتے جی رہا تھا اور تیرے بعد گزاری ہے
 
مجھ کو نہ مل پانے پر اُس کے بھی مژگان ہوئے ہیں نم
وہ بازی دراصل میں جیت گیا جو میں نے ہاری ہے
 
مجھ کو ایسے دیکھ کے تم یوں مت سمجھو فرحان ہوں میں
بعد تمہارے ہنسنا میرا محض اک دنیا داری ہے
 
اپنی ذات پہ ہے صد حیف کہ ہم دیوانوں کو تو زیست
عشقِ خدا میں وارنی تھی پر عشقِ بتاں میں واری ہے
 
روٹی، کپڑا، اور مکان کے بوجھ ہوں ایک طرف پھر بھی
واحد تیرے غم کا بوجھ ان سب بوجھوں پر بھاری ہے
 
قصّہ مجنوں، رانجھا، فرہاد و مرزا کا ختم ہوا
دار کو ناصر مہرؔ چلو اب تم کہ تمہاری باری ہے
ؔ ناصر مہر
28-12-2020