اس عین شین قاف کی نگری میں نہ جانا
داناؤں کو کرے ہے یہ پل بھر میں دوانہ
خود سے ہوئی جو ایک ملاقات تو جانا
جو جی چکے ہیں آج تلک تھا وہ فسانہ
میں اس کو چارہ گر ہی نہیں مانتا صاحب
جس چارہ گر کو اپنا پڑے حال سنانا
ہیں با کمال اپنے ہنر میں ہم ازل سے
چلتے نہیں ہم اس سے، چلے ہم سے زمانہ
مجھ کو خیالِ یار تو اب چھوڑ دے تنہا
ان جاگتی نگاہوں کو چاہوں میں سلانا
دل کھو گیا ہے مجھ سے مرا ڈھونڈ رہا ہوں
مل جائے تم کو گر، مجھے فوراً ہی بتانا
دیدارِ مہ ملا ہے مجھے مدتوں کے بعد
اب تو خدارا رُخ کو نہ آنچل سے چھپانا
برہم مزاج سے نہ مرے ہو تو پریشاں
آتا نہیں ہے یار مجھے پیار جتانا
میں چپ ہوا تو ہوں گے بہت یار پشیماں
آئے گا یاد ان کو مرا باتیں بنانا
اے منتظَر! دیارِ دلِ مہرؔ کھلا ہے
تھک جاؤ جب جہاں سے تو دوڑے چلے آنا
ؔ ناصر مہر
19-11-2020

