تُجھ پہ نظرِ کرم وہ اٹھی ہے کبھی؟
چشمِ ساقی سے مے تو نے پی ہے کبھی؟
باد صرصر لگی بعد تیرے ہمیں
یاں پہ باد صبا گر چلی ہے کبھی
رب! جہنم سے ہم کو تو خائف نہ کر
دین کی تیرے پابندی کی ہے کبھی
ایک بھی شخص انساں نہیں ہے یہاں
یا ہے وحشی یا پھر آدمی ہے کبھی
کیا کروں ہوں عجب کشمکش میں گھرا
ہے کبھی راحت اور بے کلی ہے کبھی
آتشِ دل بجھانے کے دو ہی طریق
اشک ریزی یا پھر شاعری ہے کبھی
مہرؔ اُس کے تصور میں رقصاں رہے
معرفت بھی ہے اور وجد بھی ہے کبھی
ؔ ناصر مہر
28-10-2020

