اب عشق کا یہ امتحاں تمام شُد
کہ سانس کا یہ کارواں تمام شُد
 
یہ خلق ہے کیا گیا مرے لیے
مرے بغیر ہے جہاں تمام شُد
 
تُو روکے گا ستم سے ہاتھ یار کب؟
کہ ہوگی کب مری فغاں تمام شُد؟
 
اک اُس حسین گل بدن کی چاہ میں
ہوئے کئی فلاں فلاں تمام شُد
 
سبھی سے توڑ ڈالے اختلاط اب
کہ ربط تھے سبھی زیاں، تمام شُد
 
یہ سب مکان و لامکاں کا واقعہ
جہاں ہوا خدا عیاں، تمام شُد
 
تو مہرؔ سمت جلد ہی لے دشت کی
کہیں نہ ہو پڑے خزاں تمام شُد
ؔ ناصر مہر
21-09-2020