جبھی تو یہ حالتِ حال ہے، ہوا دستیاب ہے غیر کو
وہی چاند پڑ گیا ماند اب، تھا فلک کی زینت و زیب جو
 
نہیں کچھ غرض مجھے ہم نشیں ترے آسماں کی ہے ریت کیا
ہے معاملہ مرا مختلف، مرے آسماں پہ ہیں چاند دو
 
مری قربتوں سے چہکتی تم، مرے لمس سے جو مہکتی تم
مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
 
یہ جنوں، یہ وحشتِ دل مری، مجھے جاں بہ لب ہیں کیے ہوئے
مرا دم ہے گھُٹنے لگا یہاں، مجھے سُوئے دَشت رواں کرو
 
مجھے بخشے تم نے ہیں غم تو کیا، یہی ہوں گے میرے نصیب میں
مری ہے دعا یہ خدا سے، تم جہاں بھی رہو وہاں خوش رہو
 
مری جانِ جاں تری خامشی ہے بے رحم اور بڑی جاں گسل
یوں خموش رہ کے نہ چور چور تو کر مرے دلِ زار کو
 
مجھے دیکھ کر تری لمحہ بھر جو ٹکی تھی رخ پہ مرے نظر
اسی پل نے فاش ہے کر دیا تری بے نیازی کے ڈھونگ کو
 
دلِ مہرؔ ورد تمہارے نام کا روز و شب ہی کیا کرے
کبھی گر ملیں تمہیں فرصتیں اے قرینِ دل، اسے تم سنو
ؔ ناصر مہر
10-09-2020