اب اس دنیا کی محفل سے کنارہ کر لیا جائے
یہ اچھا ہے کہ خلوت کو سہارا کر لیا جائے
کہا تم سے بھلا کس نے کہ پیار اک بار ہوتا ہے
یہ ممکن ہے کسی بھی دم دوبارہ کر لیا جائے
بہت نافع ہے وہ لڑکی سو اب سوچا یہ ہے میں نے
اسے کھو کر محبت میں خسارہ کر لیا جائے
وصال اُن کا تو وا حسرت نہیں تقدیر میں اپنی
سو پھر تصویر سے ان کی گزارا کر لیا جائے
دل و جاں تو مری جاناں تمہارے ہو چکے کب کے
یہ کاوش ہے خرد کو بھی تمہارا کر لیا جائے
ہمارے ساتھ رہ کر بھی ہمارا کب رہا ہے وہ
سو اب غیروں کو سنگ اس کے گوارا کر لیا جائے
دلِ مہرِؔ شکستہ ہے بہت بھٹکا تیری خاطر
بس اب چاہیں اسے واپس ہمارا کر لیا جائے
ؔ ناصر مہر
11-07-2020

