اے ستم گر ہمیں یوں ستایا نہ کر
ہم کو تُو بارہا آزمایا نہ کر
 
تُجھ پہ صدقے مرا دل مری جان بھی
ہم ترے ہیں ہمیں تُو پرایا نہ کر
 
اس زمانے کا تُو بھی چلن سیکھ لے
کر لے وعدہ تو پھر وہ نبھایا نہ کر
 
بس بہت ہو گیا ماتمِ ہجر اب
یا تو خود آ یا پھر یاد آیا نہ کر
 
ساری خلقت ہے بے رحم، بہری یہاں
دردِ دل ان کو اپنا سنایا نہ کر
 
اس کے قابل نہیں عاجز و ناتواں
مہرؔ کی آزمائش خدایا نہ کر
ؔ ناصر مہر
28-05-2020