آج مجھ کو گلے سے لگا، عید ہے
آج سب رنجشیں دے بھلا، عید ہے
گردشِ جام رندوں تلک روک مت
ساقیا! شیخ کو بھی پلا، عید ہے
ناز و شوخی سے کر خود کو تُو جلوہ گر
سرخ پوشاک میں آج آ، عید ہے
کھول کر زلفِ عنبر فشاں جانِ جاں
آج کر دے معطر فضا، عید ہے
آئنہ برطرف کر کے زیبائی کا
پوچھ مجھ سے، مجھے بھی بتا، عید ہے
جس ستم گر نے دل پارہ پارہ کیا
بخش دے اُس کی ہر اک خطا، عید ہے
پیار پھوٹا کہاں سے یہاں، ہر کوئی
!آج کیوں ہے گلے مل رہا؟ عید ہے
طرزِ رسمی سے ہٹ کر، الم بھول کر
مہرؔ منشط غزل اک سنا، عید ہے
ؔ ناصر مہر
24-05-2020

