زندگی ہمیں تُو نے کس قدر ستایا ہے
ایک ایک اشک اپنا اشک خوں بنایا ہے
نفس کی غلامی میں دو گھڑی کی خوشیاں ہیں
اور ہر خوشی یاں کی جھوٹ اور مایا ہے
سُن بڑے سے دل والی دل کی کچھ خبر تو دے
بعد میرے واں آ کے کون اب سمایا ہے
شعر کس قدر پیارے اِس قلم سے چھلکیں ہیں
سوچ کیوں ہے روشن سی، کون یاد آیا ہے؟
ہم تو بے سرو ساماں دشت میں ہیں سرگرداں
ایک دل ہی تھا اپنا وہ بھی اب پرایا ہے
تیرگی سے تھوڑی سی ہو رہی گھٹن تھی سو
آج شام چائے پر چاند کو بلایا ہے
تُجھ سے بے وفاؤں کو شاعری کی صورت میں
کس طرح سنانا ہے، داغؔ نے سکھایا ہے
اُس کی اک سہیلی سے کر لی دوستی میں نے
راہ اک نیا ایسے اُس تلک بنایا ہے
اب تو اُس کو اُلجھن ہے سادگی سے مٹی سے
اِک کسان کا بیٹا شہر جا کے آیا ہے
مہرؔ سے محبت کی اب تُجھے تمنا کیوں؟
تُو نے تو اسے ناداں شوق سے گنوایا ہے
ؔ ناصر مہر
28-04-2020

