نگاہوں کو تجھ پر جڑی چاہتا ہوں
میں چوکھٹ پہ تیری پڑی چاہتا ہوں
تمہیں تو میں بھیجوں گا تحفے میں جوڑا
مگر اپنی خاطر گھڑی چاہتا ہوں
جو روٹھے وہ مجھ سے مناؤں نہ اس کو
میں کچھ اس طرح گڑبڑی چاہتا ہوں
بھٹکنے نہ دے جو مجھے کوچۂ جاں
میں خود پر نظر وہ کڑی چاہتا ہوں
مرے وصل کی، قرب کی، آگ کی میں
بھڑک اُس کے دل میں بڑی چاہتا ہوں
چلے جو تو ہو ”مہرؔ“ کا ورد جاری
تری سانس کی وہ لڑی چاہتا ہوں
ؔ ناصر مہر
01-06-2019

