میں خود کو یاد دلا کر تری ستاؤں گا
تجھے میں بھول بھی پایا تو نئیں بھلاؤں گا
اسے روایتی رو کے نہ میں بناؤں گا
میں تیرا ہجر بڑی دھوم سے مناؤں گا
قریں نہیں ہے مرے شہر کے کوئی دریا
میں گر کروں گا کچھ احسان تو جتاؤں گا
میں مانتے ہوئے کہنا جنابِ راحت کا
جب اس سے ہاتھ ملاؤں گا تو دباؤں گا
نگاہِ ہجر زدہ کیسی لال ہوتی ہے
مجھے ملو گے کسی دن، تمہیں دکھاؤں گا
میں تیری راہ کا پتھر ہوں اس لیے جاناں
میں خود کو خود ہی تری راہ سے ہٹاؤں گا
خدا اٹھائے گا جب حشر میں مجھے میرا
میں اپنے پیار کا تب مدعا اٹھاؤں گا
پرند اور ہرا رنگ ہیں پسند اسے
درخت صحن میں اپنے میں اک لگاؤں گا
تُو میرے پیار کو آنکھوں میں دیکھ لینا مری
میں تُجھ کو چیر کے دل تو نہیں دکھاؤں گا
ملی تھی مہرؔ کہ جس دم مجھے وفا کی سند
مجھے خبر یہ نہ تھی غم ہی غم کماؤں گا
ؔ ناصر مہر
18-05-2021

