کیوں بھلا مجھ کو نہ بھائے خامشی
مجھ کو سینے سے لگائے خامشی
اپنی ہر عرضِ تمنا پر ملی
خامشی ہی واں سے، ہائے خامشی
جب کہا پہلو میں ہے تو بول کچھ
دل سے آئی تب صدائے خامشی
قہقہے چھوڑ آئے بچپن میں سبھی
لے جوانی میں ہم آئے خامشی
منظرِ دالاں یہ کتنا خوب ہے
اُس کی یادیں، گرم چائے، خامشی
اپنے ہمراہ تھیں سبھی خوشیاں کبھی
اب ہیں درد و غم کے سائے، خامشی
یار بھی اب ہوں ظرافت سے خفا
مہرؔ اب اپنائی جائے خامشی
ؔ ناصر مہر
28-05-2021

