اپنے زخموں کو وا نہیں کرنا
اب کسی سے گِلہ نہیں کرنا
 
کرنا اصرار وصل کو اُن سے
ہاں مگر بارہا نہیں کرنا
 
اپنی فطرت ہے درد سہہ لینا
رحم کی التجا نہیں کرنا
 
!تم سے الفت میں مت پڑوں؟ اچھا
اس سوا اور کیا نہیں کرنا؟
 
اس محبت سے بھی ہے توبہ اور
عشق تو باخدا نہیں کرنا
 
اِک دفعہ دل سے جو اتر جائے
اُس سے پھر رابطہ نہیں کرنا
 
کچھ بدل کر اصول اب مولا
دو دلوں کو جدا نہیں کرنا
 
میں تو خوش باش ہوں اذّیت میں
میری خاطر دعا نہیں کرنا
 
پیٹھ مجھ سے تو پھیر لی تم نے
اب کسی سے دغا نہیں کرنا
 
مہرؔ چہرے پہ تو ہنسی لا کے
رنج کو بے ردا نہیں کرنا
ؔ ناصر مہر
28-05-2021