دِل اس کا بھی نہیں خالی مرے دِل میں گر اُلفت ہے
نہیں ہے انتہا جس کی، غضب کی وہ کدورت ہے
اٹھاتا ہاتھ ہوں لیکن زباں سے کچھ نہیں کہتا
کہ وہ تو جانتا ہے سب، کسے، کب، کس کی حاجت ہے
محبت کی تھی ناداں سے قلیل عرصہ، یہ اس کی ہی
مرا اترا ہوا زرد و سيہ چہرہ امانت ہے
کبھی کچھ بات کہتا ہوں تو میں کہتا نہیں بے جا
جو میرے منھ سے نکلے ہے وہ بے شک، سب، صداقت ہے
سراپا خوب صورت ہے ترا جاناں، بجا، لیکن
!تری گردن کی دائیں اور کا تل، اف، قیامت ہے
زمانے مہرؔ کی خاطر پریشاں بے وجہ ہے تو
کرے گا خود کو ریزہ، خود سے ہی اس کی عداوت ہے
ؔ ناصر مہر
12-06-2021

