میرے در پر نہ رکو میرے صنم، مڑ جاؤ
تم بھی اب درد سہو، بین کرو، پچھتاؤ
ہم ہیں اکتائے ہوئے فرقت و وصلت سے بہت
گر ہے تیجی کوئی صورت تو ہمیں بتلاؤ
تیری یادیں بھی تھکیں کاٹ کے چکر گھر کے
رات اُکتائی ہوئی کہنے لگیں، مر جاؤ
خود کو اپنی ہی زیاں کاری سے کھویا ہم نے
ڈھونڈتے اب ہیں بہت، راہ کوئی دکھلاؤ
میرے گاؤں کی طرف آتی سڑک بھی اب تو
بین تم کو ہے کرے، یار بس اب لوٹ آؤ
قلّتِ دید کے باعث یہ مری آنکھوں کے
گرد حلقے ہیں پڑے، لمحے کو مکھ دکھلاؤ
شاعری کام زبردست ہے، جو کہہ نہ سکو
چند الفاظ چنو، بحر چنو، لکھ جاؤ
عشق بھی ٹیک چلا گھٹنے کہ جب دیکھ لیے
مہرؔ کے دل پہ لگے ظلمِ جہاں کے گھاؤ
ؔ ناصر مہر
20-06-2021

