تمہارا نام اب سانسوں کی مالا میں پرونا ہے
تمہیں اپنا بنانا ہے، تمہارا ہم نے ہونا ہے
ہماری اور تمہاری ذات میں بس فرق ہے اتنا
ہماری ذات مٹّی ہے تمہاری ذات سونا ہے
گلہ دہر ستم گر کا بھلا کاہے کیا جائے
کہ ہم ایسے سیہ بختوں کی قسمت میں ہی رونا ہے
یہ میری ذات تو اک بے نشاں ذرّے کے جیسی ہے
تری ہستی کے ہونے سے مری ہستی کا ہونا ہے
فقط اتنا ہی پوچھا ہے، تمہیں مجھ سے محبت ہے؟
!یہ چپ کیوں سادھ رکھی ہے بھلا تم نے، کہو نا، ہے
غمِ جاناں سے ہے اپنا تعلق مہرؔ کچھ ایسا
یہی ہے اوڑھنا اپنا، یہی اپنا بچھونا ہے
ؔ ناصر مہر
27-07-2021

