جگر کے داغ مرے جب میں یاد کرتا ہوں
ستم سہے جو ترے سب میں یاد کرتا ہوں
 
کلامِ داغ سے کر کے یہ ذہن و دل روشن
سخن کی عمدگی کا ڈھب میں یاد کرتا ہوں
 
میں تُجھ کو یاد تو کرتا ہوں جانِ جاں لیکِن
یہ مجھ کو یاد نہیں کب میں یاد کرتا ہوں
 
مرا خیال تمہاری طرف ہی جاتا ہے
سکون و راحتِ دل جب میں یاد کرتا ہوں
 
کتاب عشق میں میری جو درج ہونا تھا
وہ لمحہ وصل کا ہر شب میں یاد کرتا ہوں
 
یہ کیا رہائی کہ دانہ ملے نہ اُڑ پاؤں
قفس کے دن ہی تھے خوب، اب میں یاد کرتا ہوں
 
گھنیری زلف، کبھی چشم اور کبھی عارض
کبھی وہ مثلِ کلی لب میں یاد کرتا ہوں
 
وہ رنگ و لطف و مسرت، وہ جشن کی بزمیں
رلا دیں مہرؔ مجھے جب میں یاد کرتا ہوں
ؔ ناصر مہر
11-07-2021