ترے بن جب سے سانسیں بھر رہے ہیں
گو تب سے جیتے جی ہی مر رہے ہیں
ملال و رنج و آلام و تحزّن
مقدر ہیں سو آہیں بھر رہے ہیں
خدایا خیر کرنا عاقبت میں
کہ یاں ہم محض محوِ شر رہے ہیں
بھروسے والوں نے لُوٹا ہے ہم کو
عدو نکلے جو نامہ بر رہے ہیں
تری تصویر سے اے جانِ جاناں
گزارا ہو رہا ہے، کر رہے ہیں
وہ دل بھی موم کر دیں گے کبھی ہم
کئی صدیوں سے جو پتھر رہے ہیں
لگی ہے مہرؔ ایسی علّتِ ہجر
وصَالِ یار سے اب ڈر رہے ہیں
ؔ ناصر مہر
04-07-2021

