یہ کیسا قہر کرب اندر مچائے
سرِ مژگاں یہ موتی کیوں ہیں آئے
 
اگر تم کو محبت کا ہے دعویٰ
لگا رکھی ہے کیوں پھر ہائے ہائے
 
جو رونا روئے داغِ دل کا اس کو
کوئی لے جائے، میرا دل دکھائے
 
یہ آنکھیں کیا قیامت ڈھا رہی ہیں
خدا ایسی نگاہوں سے بچائے
 
کہ ملنا یاس کا لازم ہے اُس کو
محب کو بارہا جو آزمائے
 
اُڑیں گی دھجیاں عزت کی میری
خدا مجھ پر سے گر پردہ ہٹائے
 
محب تیرا دمِ آخر بھی ظالم
نہ کلمہ گو ہو، بس تُجھ کو بلائے
 
میں بُلھّے شاہ کو اب سمجھا، کیسے
کِسی کو عشق تھیّا کر نچائے
 
جو لکھوں مہرؔ لکھوں حق کی خاطر
خدا میرا قلم کچھ یوں چلائے
ؔ ناصر مہر
29-06-2021