بو الہوس جتنے ہیں سب کو ہے میسّر قربت
اور ہے قسمتِ عشاق میں لکھی فرقت
یاد تیری تو رہی بعد کی بات اے جاناں
مجھ کو اب شعر بھی کہنے کی نہیں ہے فرصت
اب تو روداد کوئی وعدۂ وصلت کی سنا
کب تلک اور دلِ زار میں پالوں حسرت
عشق کے عین سے بھی جن کو شناسائی نہیں
خود کو دیں مجنوں و رانجھا و پنل سے نسبت
بے جھجک چوم لیا کرتی ہیں رخسار ترے
ہوتی کیونکر ہے تری زلفوں کی اتنی جرأت
یوں بھی ممکن تھا کہ سانچے میں ترے ڈھل جاتا
مہرؔ سے گر تو بچھڑنے میں نہ کرتا عجلت
ؔ ناصر مہر
27-07-2021

