کیا زندگی ہے وہ جو تمہارے بغیر ہو
جوں باغ کی بے نکہت و بے رنگ سیر ہو
کر کے جو تم چلے ہو یہ ترک تعلقات
جاؤ تمہارا اگلا سفر بھی بخیر ہو
دل صاف ہو اگر تو اسی میں ہی بن پڑے
چاہے حرم ہو یا ہو کلیسا یا دیر ہو
اپنا تو جاوداں ہے یہ عشق، اس کی فکر نئیں
!تیرے شباب و حسن کی، شوخی کی خیر ہو
جس کے لبوں پہ نام کا رہتا تھا میرے ورد
اب ہم کلام ہوتا ہے یوں جیسے غیر ہو
اے کاش ہو نصیب مجھے دن وہ دیکھنا
دہلیز میرے گھر کی ہو اور اُن کا پیر ہو
ؔدیکھیں ہمیں مسرتیں کچھ اس نظر سے مہر
جیسے ہمارے درمیاں صدیوں کا بیر ہو
ؔ ناصر مہر
02-08-2021

