کروں میں اُس پری پیکر کے دل میں گھر، بھلا کیسے؟
کروں میں موم اُس دل کو جو ہے پتھر، بھلا کیسے؟
 
وہاں سے چار گلیاں دور تک بیٹھے ہیں شہزادے
ہم ایسوں کو میسّر ہو تمہارا در، بھلا کیسے؟
 
يا رستہ بھول بیٹھی ہے یا اس نے دید کھو دی ہے
خوشی آج آ پدھاری ہے ہمارے گھر، بھلا کیسے؟
 
یہ سب کی سب کراماتِ محبت ہیں وگرنہ یوں
کسی کو لگتی ہے باد صبا صرصر، بھلا کیسے؟
 
اجاڑے ہیں کئی مجنوں، کئی رانجھے محبت نے
بتاؤ، ہم کو ہو پھر بھی یقیں اس پر، بھلا کیسے؟
 
یہ مرضِ عشق ہو جائے جسے لاحق اے چارہ گر
طبیعت ہو پھر اُس کمبخت کی بہتر، بھلا کیسے؟
 
مرے اندر بسیرا کر رکھا ہے غم نے برسوں سے
میں خوش ہو کر بچارے کو کروں بے گھر، بھلا کیسے؟
 
سدا ماں باپ کے چہرے پہ میں مسکان لایا ہوں
جہنم كا ہو، بولو مہرؔ، مجھ کو ڈر، بھلا کیسے؟
ؔ ناصر مہر
02-08-2021