جس کے مقابل عشق اگر ہو تو زیر ہو
!ہے کون اس جہاں میں جو ایسا دلیر ہو
 
باہر کی رونقوں سے ہوں کیونکر مسرتیں
ویران گھر میں دل کے اگر گھپ اندھیر ہو
 
رخصت جو ہو رہے ہو تو عجلت کرو ذرا
ایسا نہ ہو رقیب سے ملنے میں دیر ہو
 
کچھ ایسا کر کہ شام و سحر دید ہو تری
کچھ ایسا کر کہ تشنہ نظر میری سیر ہو
 
عشاق کی سجی ہوئی محفل کو دیکھ کر
لگتا ہے مہرؔ جیسے اذیّت کا ڈھیر ہو
ؔ ناصر مہر
02-08-2021