ترے بنا یہ زیست جو محال ہے، کمال ہے
جو دل کو تیرے ہجر کا ملال ہے، کمال ہے
تمہارے بخشے غم سے چہرہ زرد ہے بلا کا اور
ملال میں جو آنکھ میری لال ہے، کمال ہے
وہ زلفیں، ابرو، نین، گال، ہونٹ بھی ہیں خوب تر
مگر گلوئے یار کا جو خال ہے، کمال ہے
اے جانِ جاں! تمہارے بن تصورِ حیات تو
میں کیا بتاؤں کس قدر مہال ہے، کمال ہے
ہے وقتِ مرگ، رب سے مغفرت کی التجا کرو
ابھی بھی تم کو اُس کا ہی خیال ہے، کمال ہے
جو درد اپنا شعر میں سمو کے مہرؔ نے کہا
تو سامعین بول اٹھے، کمال ہے، کمال ہے
ؔ ناصر مہر
07-08-2021

