مری جانِ جاں مجھے تو اتنا نہ آزما اب
ترے چاند جیسے رخ سے پردہ ہٹا ذرا اب
نہیں کر سکو گے قطعاً مسحور دل مرا اب
کسی اور پر اُچھالو جا کر یہ شوخ ادا اب
نہیں نین ہوں گے اب نم، حاوی نہ ہو گا اب غم
بڑے ہوں گے مطمئن ہم گر ہو گا تو جُدا اب
ہوئی مسکرائے مدت، خوش تھا میں عرصہ پہلے
مرا دم نکل نہ جائے، مجھ کو نہ یوں ہنسا اب
ہوا عشق میں ہوں مشرک، جرم اس سے ہے بڑا کیا؟
!مرا نامراد جیون ہی ہے مری سزا اب
مرے انس سے بلآخر دل موم ہو گیا وہ
جہاں تھا سکوت طاری، واں حشر ہے بپا اب
کیا جائے ترک اُن کو يا گڑگڑايا جائے
نہیں مہرؔ کوئی چارہ اس کے سوا بچا اب
ؔ ناصر مہر
08-08-2021

