اُن کے تغافل، اُن کی تعدی، اُن کے ستم کے کیا کہنے
اُن کی توجہ، اُن کے ترحم، اُن کے کرم کے کیا کہنے
رویا گیا ہو خوں جس غم میں اس کا مقام ہے اپنا، پر
اشک بہائے بن جو پلا ہو ایسے الم کے کیا کہنے
رہتی ہے برسات مسلسل، ایک بھی پل تھمنے کی نہیں
تیرے بعد آنکھوں میں لگا جو اُس موسم کے کیا کہنے
تُجھ کو مخاطب کر کے جو بھی بولے جائیں بول عش عش
تیرے سنگ اٹھنے والے ہر ایک قدم کے کیا کہنے
مہرؔ مجھے کچھ غرض نہیں ہے میری بلا سے دنیا میں
اور بھی لاکھوں ہوں گے حسیں پر میرے صنم کے کیا کہنے
ؔ ناصر مہر
11-09-2021

