درد ایسا ہے کہ لفظوں میں نہیں آ سکتا
کرب ایسا ہے کہ اشکوں میں نہیں آ سکتا
لطف جو اُن کے تغافل سے ملے درد کا ہے
وہ نمک سے اٹے زخموں میں نہیں آ سکتا
خوش کلامی سے میں کر سکتا ہوں جگ کو تسخیر
حیف! وہ بت مری باتوں میں نہیں آ سکتا
خوب ہے، آپ نہیں آ سکو ہو دل میں مرے
اور میں آپ کے قدموں میں نہیں آ سکتا
ہجرِ جاناں میں جو ہوتا ہے مری آہ میں سُر
عالمِ کُل کے وہ نغموں میں نہیں آ سکتا
گھیر لے تیرگیِ عشق جسے وہ کمبخت
جس قدر چاہے اُجالوں میں نہیں آ سکتا
مہرؔ عاشق ہے نئے دور کا، دیوانہ نہیں
مثلِ مجنوں یہ خرابوں میں نہیں آ سکتا
ؔ ناصر مہر
10-09-2021

