عشق سوائے اس کے کیا ہے
رنج، ملامت اور بلا ہے
اُس کو جو خود بن خوش دیکھا ہے
کیسے کہیں کیا حال ہوا ہے
ہجر نے ہم کو مار دیا ہے
اور وہ ویسے کا ویسا ہے
عشق میں اب جگ سے لڑنا ہے
تیرے تئیں جینا مرنا ہے
تیرے سوا جو کچھ بھی مرا ہے
سارے کا سارا تُجھ پہ فدا ہے
بے شک ہیچ ہے اور بے جا ہے
لاحق جو غم تیرے سوا ہے
سامنے چاند سا کیا دکھتا ہے؟
!یار ترا سرِ بام آیا ہے
اُس نے باہر قدم رکھا ہے
ساری گلی میں حشر بپا ہے
گاہے گاہے یوں لگتا ہے
شاید ناصح سچ کہتا ہے
یاد میں تیری، شب بھر میرا
ساتھ چراغ کے دل یہ جلا ہے
ہم ایسوں کے در پہ ہمیشہ
تاک لگائے غم بیٹھا ہے
دید کو تیری تیرا دوانہ
پلکیں بچھائے در پہ پڑا ہے
یاد میں تیری، ہر شب میری
آنکھوں سے دریا بہتا ہے
محض ہمیں یاں جھلسے نہیں ہیں
عشق کی آگ میں وہ بھی جلا ہے
خانۂ دل کا کیا ہے عالم؟
یاں سے دھواں سا کیوں اٹھتا ہے؟
رب سے مجھ کو یار کے بدلے
شعر و سخن کا ہنر ملا ہے
مہرؔ دیا ہے بے بس سا اک
یاد تمہاری تیز ہوا ہے
ؔ ناصر مہر
10-09-2021

