میں نے کہا کہ پیار ہے؟ اُس نے کہا نہیں نہیں
دل ترا بے قرار ہے؟ اُس نے کہا نہیں نہیں
 
دل بھی ہوا ہے غیر اب، پوچھا جو اُس سے بيتی شب
تُجھ پہ کچھ اختیار ہے؟ اُس نے کہا نہیں نہیں
 
مستِ نگاہِ یار سے ہم نے کہا یہ بارہا
بادہ میں بھی خمار ہے، اُس نے کہا نہیں نہیں
 
پوچھا کبھی جو يار سے اُس کی خوشی کا مجھ پہ بھی
رتی بھر انحصار ہے؟ اُس نے کہا نہیں نہیں
 
دیکھی جو اُس کی بے کلی، بولی سکھی کہ مہرؔ ہی
کا اسے انتظار ہے، اُس نے کہا نہیں نہیں
ؔ ناصر مہر
13-09-2021