ہیں میری جان کو بخشے وبال بھی ان نے
کہ کر دیا مرے اشکوں کو لال بھی ان نے
کہ تُجھ کو تکنے کے بعد آنکھیں روزے دار ہوئیں
نہ غیر تکنے کی پھر کی مجال بھی ان نے
یہ اہلِ عشق ہیں آہ و فغاں تو دور کی بات
کیا نہ جور و ستم کا سوال بھی ان نے
یہ آنکھیں محض محبت میں ہی نہیں پڑتیں
عدو ہی کتنے کیے ہیں نڈھال بھی ان نے
نہیں ہیں جال یہ اشعار محض لفظوں کا
لیے ہیں درد ہی کتنے سنبھال بھی ان نے
بدل کے قدموں نے رخ پٹکے ہیں کئی رشتے
کیے ہیں ربط ہی کتنے بحال بھی ان نے
خطوط اُس کے نہیں محض ٹکڑا کاغذ کا
کہ بخشے ہم کو خیالی وصال بھی ان نے
نہ مہرؔ جان گنوا ان کے واسطے اپنی
کہ تجھ کو بخشے ہیں سارے ملال بھی ان نے
ؔ ناصر مہر
03-10-2021

