وہ پھر بن ٹھن کے گھر سے جا رہی ہے
نجانے کس کی شامت آ رہی ہے
 
اسے راہِ اجل دکھلا رہی ہے
جسے وہ دیکھ کر مُسکا رہی ہے
 
شفق پھیلی ہوئی ہے چاروں جانب
ترے رخسار کی یاد آ رہی ہے
 
میں ہنس لیتا ہوں پر تیری جدائی
مجھے اندر ہی اندر کھا رہی ہے
 
نہیں معلوم کیا انجامِ خاکی؟
تو اتنا کس لیے اترا رہی ہے؟
 
عطائے دید سے شاداب کر دو
کلی اس زیست کی کمھلا رہی ہے
 
نہیں ہے مہرؔ کی فطرت میں الحاح
چلی جائے اگر وہ جا رہی ہے
ؔ ناصر مہر
19-11-2021