اُس نظرِ کے ہی سبب پھول کھلا کرتے ہیں
وہ اٹھا کرتی ہے تو تارے جلا کرتے ہیں
 
کیا عجب؟ ڈھونڈ نہ پائی جو یہ دنیا مجھ کو
لعل ویسے بھی بہت کم ہی ملا کرتے ہیں
 
لذّتِ عشق اسی میں ہی تو پنہاں ہے میاں
نہیں عشاق ستم کا جو گِلہ کرتے ہیں
 
کیوں رفو گر کو بلا وجہ پریشان کریں
چاک سینوں کے بھلا یار سلا کرتے ہیں؟
 
ابتدا قصۂ حزن و الم و رنج کی یار
جامِ لبریزِ مئے صبر پلا، کرتے ہیں
 
کب تلک مہرؔ اسی کے لیے مغموم رہے؟
!دِل لگی بار دِگر، چل نا دلا، کرتے ہیں
ؔ ناصر مہر
17-12-2021